عربی (اصل)
1111 صحيح حديث عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضي الله عنه، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتَوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِن ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَه اللهُ، فَهُوَ إِلَى اللهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that a man had consumed wine, so the Prophet had him lashed with two palm branches about forty times. Abu Bakr also did so. When Umar consulted the people, Abd al-Rahman ibn Awf said: "The lightest prescribed punishment is eighty lashes." So Umar ordered eighty.
اردو ترجمہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃ العقبہ کے (بارہ) نقیبوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، فرمایا:”مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں (خدا کی) نافرمانی نہ کرو گے۔ جو کوئی تم میں (اس عہد کو) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان (بری باتوں) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں (اسلامی قانون کے تحت) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے (گناہوں کے) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے (گناہ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا (معاملہ) اللہ کے حوالے ہے، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دے دے۔“(عبادہ کہتے ہیں کہ) پھر ہم سب نے ان (سب باتوں) پر آپصلی اللہ علیہ وسلمسے بیعت کر لی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحدود/حدیث: 1111]
