عربی (اصل)
1038 صحيح حديث سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نفَيْلٍ، أَنَّهُ خَاصَمَتْه أَرْوى فِي حَقِّ، زَعَمَتْ أَنَّهُ انْتَقَصَهُ لَهَا، إِلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقولُ: مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl: Arwa disputed with him about a right she claimed he had diminished for her, and brought the case before Marwan. Sa'id said: "Would I diminish anything from her right? I testify that I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Whoever wrongfully takes a handspan of land, it will be hung around his neck on the Day of Resurrection from seven earths.'"
اردو ترجمہ
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا ارویٰ بنت ابی اوس سے ایک (زمین کے) بارے میں جھگڑا ہوا، جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی ہے۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلے کے لیے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے سنا ہے:”جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1038]
