Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Every Muslim is obligated to give charity." They said: "O Prophet of Allah, what if he cannot?" He said: "He should work with his hands, benefiting himself and giving charity." They said: "What if he cannot?" He said: "He should help one who is in desperate need." They said: "What if he cannot?" He said: "He should enjoin what is good." They said: "What if he cannot?" He said: "He should abstain from evil, for that is charity for him."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا، پھر جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا:”کھولو۔“اس نے پوچھا:”آپ کون ہیں؟“جواب دیا:”جبریل۔“پھر انہوں نے پوچھا:”کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“جواب دیا:”ہاں، میرے ساتھ محمدصلی اللہ علیہ وسلمہیں۔“انہوں نے پوچھا:”کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟“کہا:”جی ہاں۔“پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا، ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے، جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے، انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“انہوں نے کہا:”یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں، جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں، اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔“پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو، اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے داروغہ کی طرح پوچھا، پھر کھول دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ یعنی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے آسمان پر حضرات آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا بیان نہیں کیا، البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ سیدنا ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جواب دیا:”یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔“پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے کہا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔“پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں۔“پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی)۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں، میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا، جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا:”آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے کیا فرض کیا ہے؟“میں نے کہا:”پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔“انہوں نے فرمایا:”آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔“میں واپس بارگاہِ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے، پھر میں بارگاہِ رب العزت میں حاضر ہوا، پھر ایک حصہ کم ہوا، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی۔ پھر میں بار بار آتا جاتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں، میری بات بدلی نہیں جاتی۔“اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جاؤ، لیکن میں نے کہا:”مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔“پھر جبریل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں، اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 102]
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Every Muslim is obligated to give charity." They said: "O Prophet of Allah, what if he cannot?" He said: "He should work with his hands, benefiting himself and giving charity." They said: "What if he cannot?" He said: "He should help one who is in desperate need." They said: "What if he cannot?" He said: "He should enjoin what is good." They said: "What if he cannot?" He said: "He should abstain from evil, for that is charity for him."
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا، پھر جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا:”کھولو۔“اس نے پوچھا:”آپ کون ہیں؟“جواب دیا:”جبریل۔“پھر انہوں نے پوچھا:”کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“جواب دیا:”ہاں، میرے ساتھ محمدصلی اللہ علیہ وسلمہیں۔“انہوں نے پوچھا:”کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟“کہا:”جی ہاں۔“پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا، ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے، جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے، انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“انہوں نے کہا:”یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں، جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں، اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔“پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو، اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے داروغہ کی طرح پوچھا، پھر کھول دیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ آپ یعنی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے آسمان پر حضرات آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا بیان نہیں کیا، البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ سیدنا ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جواب دیا:”یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔“پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے کہا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بھائی!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔“پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے فرمایا:”آؤ اچھے آئے ہو، صالح نبی اور صالح بیٹے!“میں نے پوچھا:”یہ کون ہیں؟“جبریل علیہ السلام نے بتایا:”یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں۔“پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی)۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں، میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا، جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا:”آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے کیا فرض کیا ہے؟“میں نے کہا:”پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔“انہوں نے فرمایا:”آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔“میں واپس بارگاہِ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے، پھر میں بارگاہِ رب العزت میں حاضر ہوا، پھر ایک حصہ کم ہوا، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی۔ پھر میں بار بار آتا جاتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں، میری بات بدلی نہیں جاتی۔“اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جاؤ، لیکن میں نے کہا:”مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔“پھر جبریل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں، اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 102]