عربی (اصل)
عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْثَابِتٍ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا انْتَهَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ:" اذْكُرْهَا عَلَيَّ"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَبْشِرِي، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذكِّرُكَ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "By the One in Whose hand is my soul, for one of you to take a rope and gather firewood on his back is better for him than to come to a man whom Allah has given from His bounty and ask him, whether he gives him or refuses him."
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدہ زینب (بنت جحش) رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے زید (بن حارثہ) رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس (زینب رضی اللہ عنہا) کو میری طرف سے پیغام نکاح دو، کہا کہ میں چلا اور کہا کہ اے زینب رضی اللہ عنہا! خوش ہو جاؤ، مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بھیجا ہے، وہ تجھے پیغام نکاح دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں کچھ نہیں کرنے والی، یہاں تک کہ اپنے رب عزوجل سے مشورہ (استخارہ) کر لوں، وہ اپنی مسجد کی طرف کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوگیا اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لے آئے، یہاں تک کہ بغیر اجازت کے ان کے پاس آگئے۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 94]
