عربی (اصل)
أنامَالِكٌ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Allah the Most High says: 'I am as My servant thinks of Me. I am with him when he mentions Me. If he mentions Me within himself, I mention him within Myself. If he mentions Me in a gathering, I mention him in a gathering better than it. If he draws near to Me by a handspan, I draw near to him by a cubit. If he draws near to Me by a cubit, I draw near to him by a fathom. If he comes to Me walking, I come to him running.'"
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:”جس نے اللہ کے راستے میں دو جوڑے خرچ کیے، اسے جنت میں منادی دی جائے گی، اے اللہ کے بندے! یہ بہتر ہے۔ اگر وہ نماز والوں سے ہوا تو اسے نماز کے دروازے سے آواز دی جائے گی اور اگر وہ زکوٰۃ والوں سے ہوا تو اسے زکوٰۃ کے دروازے سے آواز دی جائے گی اور اگر وہ جہاد والوں سے ہوا تو اسے جہاد کے دروازے سے آواز دی جائے گی اور اگر وہ روزے والوں سے ہوا تو اسے باب ریان (بہت سیراب کرنے والا) سے آواز دی جائے گی۔“ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپصلی اللہ علیہ وسلمپر قربان، اس بات کی کوئی ضرورت تو نہیں کہ ان تمام دروازوں سے کسی کو آواز دی جائے (لیکن) کیا کوئی ایسا ہے کہ جسے ان تمام دروازوں سے ہی آواز دی جائے؟ فرمایا کہ ہاں اور میں امید کرتا ہوں کہ تو انہی میں سے ہے۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 80]
