عربی (اصل)
عَنِابْنِ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِيالْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِيكَثِيرٌ الأَعْرَجُ، قَالَ: كُنَّا بِذِي الصَّوَارِي وَمَعَنَاأَبُو فَاطِمَةَ الأَزْدِيُّ، وَقَدِ اسْوَدَّتْ جَبْهَتُهُ وَرُكْبَتَاهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّجُودِ، فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا فَاطِمَةَ،أَكْثِرْ مِنَ السُّجُودِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةَ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Satan comes to one of you [during prayer] and says: 'Who created such-and-such? Who created such-and-such?' until he says: 'Who created your Lord?' When it reaches that point, let him seek refuge in Allah and stop."
اردو ترجمہ
کثیر اعرج نے کہا کہ ہم”ذی صواری“(جگہ) پر تھے اور ہمارے ساتھ ابوفاطمہ ازدی بھی تھے، ان کی پیشانی اور گھٹنے کثرت سجود کے سبب سیاہ ہوچکے تھے۔ (انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ میں جس پر استقامت اختیار کروں اور اسے بجا لاؤں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”سجدوں کو لازماً اختیار کر لو۔ کیوں کہ بے شک تو اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی کرے گا تو اس کے بدلے اللہ تیرا ایک درجہ ضرور بلند کرے گا اور اس کے سبب تیرا ایک گناہ یقیناً معاف کرے گا۔“)[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 72]
