عربی (اصل)
عَنْلَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَحَدَّثَهُ، عَنْيَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ،،أَنَّهُ سَأَلَأُمَّ سَلَمَةَ، عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلاتِهِ، فَقَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلاتَهُ؟ كَانَيُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
انگریزی ترجمہ
Ya'la ibn Mamlak narrated that he asked Umm Salamah (may Allah be pleased with her) about the Prophet's (peace be upon him) recitation and prayer. She said: "What concern is his prayer of yours? He would pray, then sleep for as long as he had prayed, then pray for as long as he had slept, then sleep for as long as he had prayed, until morning came." She then described his recitation, and she was describing it clearly, letter by letter.
اردو ترجمہ
یعلی بن مملک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی قراءت اور نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا: تمہارا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکی نماز کا کیا واسطہ؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھتے، پھر سو جاتے، جس قدر کہ نماز پڑھی ہوتی، پھر نماز پڑھتے جس قدر کہ سوئے ہوتے، پھر سو جاتے، جس قدر کہ نماز پڑھتے، پس آپصلی اللہ علیہ وسلمکی یہی نماز ہوتی یہاں تک کہ صبح کرتے، اور انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی قراءت کا انداز بیان کیا، اچانک آپصلی اللہ علیہ وسلمکی قراءت کو ایک ایک حرف ظاہر اور کھول کر بیان کر رہی تھیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 57]
