عربی (اصل)
أنا أناإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَرَادَ قَرَظَةُ أَنْ يَأْتِيَ الْعِرَاقَ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، فَخَرَجَ مَعَهُمْعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ لِمَ خَرَجْتُ مَعَكُمْ؟ قَالُوا: وُدًّا لَنَا وَحَقًّا، قَالَ: لَكُمْ حَقًّا وَلَكِنِّي جِئْتُ فِي كَلِمَةٍ:" أَقِلُّوا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا شَرِيكُكُمْ فِيهِ"، قَالَ: فَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَوْلِ عُمَرَ.
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever is given a share of gentleness has been given a share of goodness. And whoever is deprived of gentleness has been deprived of goodness."
اردو ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قرظہ نے بنو عبد الاشہل کے کچھ لوگوں کے ساتھ عراق آنے کا ارادہ کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ نکلے اور پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیوں نکلا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہماری محبت اور ہمارے حق کی وجہ سے۔ فرمایا: بے شک تمہارا حق ہے، لیکن میں ایک بات کہنے آیا ہوں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمسے کم حدیثیں بیان کرنا اور میں اس (بات کی پابندی) میں تمہارا شریک ہوں۔ (شعبی) نے کہا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بعد نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 241]
