عربی (اصل)
عَنْمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْنَافِعٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَيَقُولُ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ أَحَدُهُمَا بَيْنَ شُرَكَاءَ، فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ: فَقَدْ يُوجِبُ عِتْقُهُ كُلُّهُ عَلَيْهِ، إِذَا كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ مِنْهُ يُقَامُ فِي مَالِهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَيُرْجِعُ إِلَى الشُّرَكَاءِ نَصِيبَهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ"، ذَكَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Do not have jealousy toward one another, and do not artificially raise prices against one another, and do not hate one another, and do not turn away from one another, and do not undercut one another in business. Be servants of Allah, as brothers."
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام اور لونڈی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جن میں سے ایک کئی شریکوں کے درمیان ہو اور ان میں سے ایک اس میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے کہ اس پر اس سارے کے سارے کو آزاد کرنا فرض ہو جائے گا، اگر اس شخص کے پاس کہ جس نے اپنا حصہ آزاد کیا اتنا مال ہو جو اس (کی آزادی) کو پہنچتا ہو، اس کے مال میں عدل کی قیمت لگائی جائے گی، وہ باقی شریکوں کی طرف ان کے حصے لوٹائے گا اور جسے آزاد کیا گیا، اس کا راستہ خالص کر دیا جائے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کیا۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 229]
