عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا فَبَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ هَذَا وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلاَءِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَقِيَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نِفَاقٌ وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اتَّقُوا الْمَلاَعِنَ الثَّلاَثَ الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَالظِّلِّ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'eed Al-Himyari narrated that Hadrat Mu'adh bin Jabal used to narrate something that the Companions of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had not heard, and he used to keep quiet about what they had heard. News of this report reached 'Abdullah bin 'Amr, and he said: "By Allah, I never heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say this, and Hadrat Mu'adh will put you into difficulty with regard to relieving yourself." News of that reached Hadrat Mu'adh, so he met with him (Hadrat 'Abdullah). Hadrat Mu'adh said: "O Hadrat 'Abdullah! Denying a Hadith from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is hypocrisy, and its sn is upon the one who said it (if it is not true). I did indeed hear the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Beware of the three things which provoke curses: Relieving oneself in watering places, in places of shade and in the middle of the street
اردو ترجمہ
حضرت ابوسعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ حضرت معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے حضرت عبداللہ بن عمرو! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے ۱؎۔
