عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} . قَالَ كَعْبٌ فِيَّ أُنْزِلَتْ كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ " مَا كُنْتُ أُرَى الْجُهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً " . قُلْتُ لاَ . قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} . قَالَ فَالصَّوْمُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَالصَّدَقَةُ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that ‘Abdullah bin Ma’qil said:“I sat with Ka’b bin ‘Ujrah in the mosque and asked him about this Verse: ‘He must pay a compensation of either fasting (three days) or giving charity (feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).’ [2:196] Ka’b said: it was revealed concerning me. I had trouble with my head, so I was carried to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), with lice crawling on my face. He said: ‘I did not think that you were suffering as much as I see. Do you have a sheep?’ I said: ‘No.’ Then this Verse was revealed: “He must pay a Fidyah (ransom) of either fasting (three days) or giving Sadaqah (charity – feeding six poor persons) or offering sacrifice (one sheep).” [2:196] He said: ‘Fasting is three days, charity is to be given to six poor persons, giving each one half of a Sa’ of food, and the sacrifice is a sheep.’”
اردو ترجمہ
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تب یہ آیت اتری: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا ، تو صوم تین دن کا ہے، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎۔
