عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . قَالُوا يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ " فَأَىُّ بَلَدٍ هَذَا " . قَالُوا هَذَا بَلَدُ اللَّهِ الْحَرَامُ . قَالَ " فَأَىُّ شَهْرٍ هَذَا " . قَالُوا شَهْرُ اللَّهِ الْحَرَامُ . قَالَ " هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ وَدِمَاؤُكُمْ وَأَمْوَالُكُمْ وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الشَّهْرِ فِي هَذَا الْيَوْمِ " . ثُمَّ قَالَ " هَلْ بَلَّغْتُ " . قَالُوا نَعَمْ . فَطَفِقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ فَقَالُوا هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood, on the Day of Sacrifice, between the Pillars, during the Hajj that he performed. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“What day is this?” They said: “The day of sacrifice.” He said: “What land is this?” They said: “This is the sacred land of Allah.” He said: “What month is this?” They said: “The sacred month of Allah.” He said: “This is the day of the greatest Hajj, and your blood, your wealth and your honor are sacred to you, as sacred as this land, in this month, on this day.” Then he said: “Have I conveyed (the message)?” They said: “Yes.” Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) started to say: “O Allah, bear witness.” Then he bade farewell to the people, and they said: “This is the Farewell Pilgrimage.”
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے ، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں نے ( اللہ کے احکام تم کو ) پہنچا دئیے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( آپ نے پہنچا دئیے ) پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔
