عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ رَبَاحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ لَهُ غَدَاةَ جَمْعٍ " يَا بِلاَلُ أَسْكِتِ النَّاسَ " . أَوْ " أَنْصِتِ النَّاسَ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Bilal bin Rabah (may Allah be well pleased with him) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him, on the morning of Jama’:“O Hadrat Bilal, calm the people down,” or “make them be quiet.” Then he said: “Allah has been very gracious to you in this Jam’ of yours. He has forgiven the wrongdoers among you because of the righteous among you, and He has given the righteous among you whatever they ask. Move on in the Name of Allah.”
اردو ترجمہ
حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: حضرت بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو ۔
