عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلاَ يَرْكَبْهَا وَلاَ يَقْبَلْهُ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Yahya (upon him be peace) bin Abu Ishaq (upon him be peace) Al-Huna'i said:“I asked Hadrat Anas bin Malik: 'What if a man gives his brother a loan, then (the borrower) give him a gift?’ The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: ‘If anyone of you borrow something then he gives (the lender) a gift or gives him a ride on his riding-beast, he should not accept the gift or the ride, unless they used to treat each other in that manner beforehand.'”
اردو ترجمہ
یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کو مال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تو یہ عمل کیسا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے ۱؎۔
