عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَبَوَيْهِ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالآخَرُ مُسْلِمٌ فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِهِ " . فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from 'Abdul-Hamid bin Salamah, from his father, from his grandfather, that :his parents referred their dispute to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and one of them was a disbeliever. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: “O Allah, guide him,” and he turned towards the Muslim, and he ruled that he should go with that parent
اردو ترجمہ
حضرت رافع بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔
