عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَا أَرَدْتَ بِهَا " . قَالَ وَاحِدَةً . قَالَ " آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلاَّ وَاحِدَةً قَالَ آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلاَّ وَاحِدَةً . قَالَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَاجَهْ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ ابْنُ مَاجَهْ أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاحِيَةً وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated from 'Abdullah bin Hadrat 'Ali bin Yazid bin Rukanah, from his father, from his grandfather, that:he divorced his wife irrevocably, then he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and asked him. He said: "What did you mean by that?" He said: "One (divorce)." He said: "By Allah did you only mean one (divorce) thereby?" He said: "By Allah, I meant one." Then he sent her back to him. (Da'if)Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan ' Hadrat Ali bin Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) Tanafisi saying: "How noble is this Hadith." Ibn Majah said: 'Abu 'Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it)
اردو ترجمہ
حضرت رکانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ فرماتے ہیں: حضرت ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
