عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ . فَقَالَ: عُمَرُ لاَ تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَيًّا وَلاَ مَيِّتًا أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ وَاللاَّحِدِ جَمِيعًا فَجَاءَ اللاَّحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ دُفِنَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Hadrat 'Aishah said:“When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) departed this world, they differed as to whether his grave should have a niche or a ditch in the ground, until they spoke and raised their voices concerning that. Then ‘Umar said: ‘Do not shout in the presence of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), living or dead,’ or words to that effect. So they sent for both the one who made a niche and the one who dug graves without a niche, and the one who used to make a niche came and dug a grave with a niche for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), then he (blessings and peace of Allah be upon him) was buried.”
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کیا گیا۔
