عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلاَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Umm Salamah (may Allah be well pleased with her) said:‘By the One Who took his soul (i.e., the soul of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)), he did not die until he offered most of his prayers sitting down. And the dearest of the actions to him was the righteous action that the person does regularly, even if it were a little.”
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔
