عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناسَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: ثناسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْثَابِتٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْأُمُّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَهُوَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ كَذَا: لا يُصَابُ أَحَدٌ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهَا، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ، فِيَّ خِلالٌ ثَلاثٌ أَخَافُهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةٌ الْغَيْرَةِ، وَأَنَا امْرَأَةٌ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي أَحَدٌ يُزَوِّجُنِي، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَغَضِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ مِمَّا غَضِبَ لِنَفْسِهِ حِينَ قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فِي كَذَا وَكَذَا، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَتْ، فَأَتَاهَا فَقَالَ:" أَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ غَيْرَتِكِ فَأَدْعُوا اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِهَا عَنْكِ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنْ صِبْيَتِكِ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيهِمْ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ أَنْ لَيْسَ هَهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ يُزَوِّجُكِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلا غَائِبٌ يَكْرَهُنِي" فَقَالَتْ لابْنِهَا: زَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهَا.
انگریزی ترجمہ
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: I heard something from the Messenger of Allah (peace be upon him) that was dearer to me than much wealth — no one is afflicted with a calamity... (She mentioned part of the hadith.) Then the Messenger of Allah (peace be upon him) sent her a marriage proposal. She said: Welcome to the Messenger of Allah, but I have three qualities that concern me: I am very jealous, I have young children, and none of my guardians is present. The Prophet (peace be upon him) said: "As for jealousy, I will pray to Allah to remove it. As for the children, Allah will take care of them. And as for the guardian — none of them, present or absent, would object."
اردو ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک بات (حدیث) سنی جو مجھے (اتنی زیادہ) دولت ملنے سے زیادہ پیاری ہے: جو بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔ الخ، انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں منگنی کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو خوش آمدید ہو (یعنی آپ کا پیغام قبول ہے) مگر مجھ میں تین امور ہیں جن کی بنا پر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے شادی کرنے سے ڈرتی ہوں: میں بہت زیادہ غیرت (غصے) والی عورت ہوں، میرا کوئی ولی نہیں جو میری شادی کروا دے، اور میں عیال دار عورت ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خاطر اتنے غصے میں آئے کہ اپنی ذات کے لیے بھی کبھی اتنے غصے میں نہ آئے تھے۔ ان (ام سلمہ) کی بات رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتک پہنچی، تو آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: آپ نے جو غیرت (غصے) کا ذکر کیا ہے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے غصے کو دور کر دے۔ جو بچوں والی بات آپ نے ذکر کی ہے، تو انہیں اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا۔ اور آپ نے جو یہ بات کہی کہ میرا کوئی بھی ولی یہاں موجود نہیں جو میری آپ سے شادی کروا دے، تو آپ کے اولیاء میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے ناپسند کرے گا، خواہ وہ یہاں موجود ہو یا غیر موجود۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے (میری) شادی کروا دیں، تو انہوں نے آپ کی شادی کر دی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 706]
