عربی (اصل)
حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثناعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: ثناحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: ثناجَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْأَبِي الْوَضِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزَاةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ بِعَبْدٍ فَلَبِثَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا حَتَّى أَصْبَحَا، قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَ الرَّحْلُ قَامَ الرَّجُلُ إِلَى فَرَسِهِ لِيُسْرِجَهُ وَنَدِمَ، قَالَ: فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ بِالْبَيْعَةِ، فَأَتَيَاأَبَا بَرْزَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَصَّا عَلَيْهِ قِصَّتَهُمَا، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
انگریزی ترجمہ
Abu al-Wadi' narrated: We were on a military expedition and stopped at a place. A companion sold his horse to a man in exchange for a slave. They spent the rest of the day and night there. When it was time to depart, the man went to his horse to saddle it, then regretted the sale. The buyer held him to the sale. They came to Abu Barzah (may Allah be pleased with him), who said: I regard you two as having not yet separated. Alternatively, he said: If you wish, I will tell you the ruling of the Messenger of Allah (peace be upon him): 'The buyer and seller have the option as long as they have not parted.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابوالوضیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں شریک تھے، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ (اس دوران) ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے عوض گھوڑا فروخت کر دیا، پھر صبح تک دن اور رات کا باقی حصہ انہوں نے وہیں گزارا۔ جب کوچ کرنے کا وقت آیا، تو وہ آدمی اپنے گھوڑے پر زین کسنے کے لیے اٹھا، تو نادم ہوا (کہ گھوڑا کیوں فروخت کیا)۔ دوسرے آدمی نے چونکہ گھوڑا خرید لیا تھا، لہذا اس نے گھوڑا پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ دونوں سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ قصہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا:”اگر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے فیصلے کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں، تو منظور ہو گا؟“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 619]
