عربی (اصل)
حَدَّثَنَاأَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: ثَنَاإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ثَنَاابْنُ عَوْنٍ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُالنُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلا وَاللَّهِ لا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّالْحَلالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ"، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ:" مُشْتَبِهَةً، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مثلا: إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَلا أَدْرِي هَذَا مَا سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ أَوْ قَالَ بِرَأْيِهِ.
انگریزی ترجمہ
Al-Nu'man ibn Bashir (may Allah be pleased with them both) said: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say — and al-Sha'bi said: By Allah, I have not heard anyone after him say 'I heard from the Messenger of Allah (peace be upon him)' — he said: "The lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters." He then gave an example, saying: "Indeed Allah has set up a sanctuary, and Allah's sanctuary is what He has prohibited. Whoever grazes near the sanctuary is likely to enter it."
اردو ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا: (شعبی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان کے بعد میں نے کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے)”حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیا ہیں، جو (جانور بھی) چراگاہ کے اردگرد چرے گا، اس کا چراگاہ میں داخل ہو جانا عین ممکن ہے، جو مشکوک چیزوں سے میل ملاپ رکھے گا، قریب ہے کہ وہ ان (کرنے) پر دلیر ہو جائے۔“ابن عون کہتے ہیں: معلوم نہیں کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے یہ بات سیدنا نعمان رضی اللہ عنہما سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 555]
