عربی (اصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَوَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَلا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلا يَتْرُكُهُ، قَالَتْ: وَلا نَعْلَمُ الْحَاجُّ مَحِلُّهُ شَيْءٌ إِلا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.
انگریزی ترجمہ
Aishah (may Allah be pleased with her) narrated: I used to twist the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (peace be upon him) with these two hands of mine. Then he would not avoid anything that the muhrim avoids. Abd al-Rahman said: He would not avoid or leave anything. Aishah said: We do not know of anything that releases the pilgrim from ihram except the tawaf of the Ka'bah.
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ہدی کے جانوروں کے قلادے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ عبدالرحمن بن القاسم کہتے ہیں: آپ نہ کسی چیز سے الگ ہوتے تھے اور نہ چھوڑتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نہیں جانتے کہ حاجی کے لیے طواف بیت اللہ کے علاوہ کوئی اور چیز احرام کھولنے کا باعث ہوتی ہے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 423]
