عربی (اصل)
حَدَّثَنَامَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: ثَنَامَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْإِسْمَاعِيلَ، عَنْقَيْسٍ، عَنْجَرِيرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى: إِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
انگریزی ترجمہ
Jarir (may Allah be pleased with him) said: I pledged allegiance to the Messenger of Allah (peace be upon him) to establish prayer, pay zakat, and be sincere toward every Muslim.
اردو ترجمہ
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 334]
