عربی (اصل)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا جَاءَهُعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَاجَتُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، فَقَالَ لَهُ: حَاجَتِي عَطَاءُ الْمُحَرَّرِينَ، فَإِنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَوَّلَ مَا جَاءَهُ شَيْءٌ بَدَأَ بِالْمُحَرَّرِينَ".
انگریزی ترجمہ
Aslam narrated that when Mu'awiyah (may Allah be pleased with him) came to Madinah for Hajj, Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them) came to him. Mu'awiyah asked: 'What is your need, O Abu Abd al-Rahman?' He said: 'My need is the stipend of the freed slaves, for I saw that the Messenger of Allah (peace be upon him), whenever something came to him, he would begin with the freed slaves first.'
اردو ترجمہ
اسلم رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ جب حج کے دوران مدینہ آئے تو سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما ان کے پاس آئے۔ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے پوچھا: ابو عبد الرحمن! کیا کام ہے؟ انہوں نے کہا: میرا کام یہ ہے کہ محررین (آزاد کردہ غلام) کا حصہ دیجیے، کیوں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ہے جب بھی آپ کے پاس کوئی چیز آتی تو آپ محررین سے ابتدا کرتے تھے۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1114]
