عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَحْتَزُّ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ وَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ فَضَحِكَ الْقَوْمُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «مَا يُضْحِكُكُمْ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Zirr ibn Hubaysh narrated that Hadrat Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) was cutting a miswak from an arak tree for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). His shins were thin, and the people laughed. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "What makes you laugh at the thinness of his shins? By the One in Whose Hand is my soul, they are heavier on the Scale than Mount Uhud."
اردو ترجمہ
حضرت زر بن حبیش سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پیلو کے درخت سے مسواک کاٹ رہے تھے۔ ان کی پنڈلیاں باریک تھیں اور لوگ ہنس پڑے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تمہیں ان کی پنڈلیوں کی باریکی پر کیا ہنسی آتی ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ میزان میں اُحد سے بھی زیادہ بھاری ہیں۔"
