عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا فَتَفَرَّقَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنُ عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ قَالَ فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «الْكُبْرَ الْكُبْرَ» قَالَ فَتَكَلَّمَا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «تَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَالَ قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَيْهِ؟ قَالَ «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ» قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ قَالَ فَوَدَاهُ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكِ الْإِبِلِ رَكْضَةً
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sahl ibn Abi Hathmah and Hadrat Rafi' ibn Khadij (may Allah be well pleased with them) narrated that Abdullah ibn Sahl and Muhayysah ibn Mas'ud went to Khaybar for some need of theirs. They separated, and Abdullah ibn Sahl was killed. His brother Abdur-Rahman ibn Sahl and his cousin Huwayysah came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Abdur-Rahman began to speak, so the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Let the elder speak first." So they spoke about the matter of their companion. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Will you establish your claim regarding your companion — or he said: your slain one — by the oaths of fifty of you?" They submitted: "O Messenger of Allah, we were not present, so how can we swear?" He stated: "Then the Jews will acquit themselves by the oaths of fifty of them." They submitted: "O Messenger of Allah, they are a disbelieving people." So the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) paid the blood money from his own side. Sahl said: "I once entered their enclosure and a she-camel from those camels kicked me."
اردو ترجمہ
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود اپنی کسی ضرورت سے خیبر گئے۔ وہ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچا زاد حویصہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمٰن نے بات شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بڑے کو پہلے بولنے دو۔" پھر انہوں نے اپنے ساتھی کا معاملہ بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا تم اپنے ساتھی یا مقتول کے بارے میں اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے دعویٰ ثابت کرو گے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم وہاں موجود نہیں تھے تو قسم کیسے کھائیں؟" آپ نے ارشاد فرمایا: "تو یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے بری ہو جائیں گے۔" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! وہ کافر لوگ ہیں۔" تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنی طرف سے دیت ادا فرمائی۔ سہل نے کہا: میں ایک دن ان کے باڑے میں گیا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
