عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَكَانَتْ تُخْرَطُ عَنَاقِيدُ الْعِنَبِ فَنَجْعَلُهُ فِي الدُّبَّاءِ ثُمَّ نَدْفِنُهَا حَتَّى تَمُوتَ وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ كُنَّا نُؤْتَى فِيهَا بِالْخَمْرِ مِنَ الشَّامِ وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَعْمِدُونَ إِلَى أُصُولِ النَّخْلَةِ فَيَنْقِرُونَهَا وَيَجْعَلُونَ فِيهَا الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ فَيَدْفِنُونَهَا فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَمُوتَ وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهَذِهِ الزِّقَاقُ الَّتِي فِيهَا الزِّفْتُ»
انگریزی ترجمہ
Abu Ya'la narrated to us, he said: Abu Khaythamah narrated to us, he said: Isma'il ibn Ibrahim narrated to us from 'Uyaynah ibn Abdul Rahman from his father from Hadrat Abu Bakrah (may Allah be well pleased with him) who said: «The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade us from ad-dubba', al-hantam, an-naqir, and al-muzaffat. As for ad-dubba', we used to pluck clusters of grapes and place them in gourds, then bury them until they fermented. As for al-hantam, they were jars in which wine was brought to us from Syria. As for an-naqir, the people of Madinah would take the base of a palm tree, hollow it out, and place fresh and unripe dates in it, then bury them in the earth until they fermented. As for al-muzaffat, these are waterskins that have tar in them.»
اردو ترجمہ
ابویعلیٰ نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ابوخیثمہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: اسماعیل بن ابراہیم نے عیینہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: «رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دبّاء، حنتم، نقیر اور مزفّت سے منع فرمایا۔ دبّاء یہ تھا کہ ہم انگور کے خوشے توڑتے اور انہیں کدو کے برتنوں میں ڈالتے، پھر انہیں دفن کر دیتے یہاں تک کہ وہ خمیر ہو جاتے۔ حنتم وہ مٹکے تھے جن میں ہمارے پاس شام سے شراب لائی جاتی تھی۔ نقیر یہ تھا کہ مدینہ کے لوگ کھجور کی جڑوں کو لیتے، انہیں کھودتے اور ان میں تازہ اور کچی کھجوریں ڈالتے، پھر انہیں زمین میں دفن کرتے یہاں تک کہ وہ خمیر ہو جاتیں۔ مزفّت یہ مشکیزے ہیں جن میں تارکول ہوتا ہے۔»
