عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا فَلَمَّا نَفِدَتْ أَزْوَادُهُمْ أَمَرَ أَمِيرُهُمْ بِمَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فَجُمِعَتْ فَجَعَلَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةً تَمْرَةً قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّهَا فُقِدَتْ فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا كَانَ أَحَدُنَا يَضَعُهَا بَيْنَ أَسْنَانِهِ وَحَنَكِهِ فَيَمُصُّهَا وَنُصِيبُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ وَنَبَاتِ الْأَرْضِ مَعَ ذَلِكَ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَأَخْرَجَ اللَّهُ لَنَا حُوتًا أَلْقَاهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا وَقَدَدْنَا فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَرْتَحِلَ أَمَرَ أَمِيرُنَا بِضِلْعٍ مِنْ ضُلُوعِهِ فَنَكَبَ طَرَفَاهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ أَمَرَ بِبَعِيرٍ فَرُحِّلَ فَمَرَّ تَحْتَهُ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent an expedition to the land of Juhaynah and appointed a man as their commander. When their provisions ran out, the commander ordered whatever was left of their provisions to be collected. It was gathered together and he would ration us one date each per day. I asked: O Abu Abdullah, what good was one date? He said: By Allah, when even that was gone, we truly felt its loss! Each one of us would place it between his teeth and palate and suck it, and we would eat from the leaves of trees and plants of the earth along with that, until we reached the seashore. Then Allah brought out for us a fish (whale) that the sea had cast ashore. We ate from it and dried its meat. When we were about to depart, our commander ordered a rib from its ribs to be set up with both its ends in the ground. Then he ordered a camel to be saddled, and it passed under it.
اردو ترجمہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ جب ان کا زادِ راہ ختم ہو گیا تو امیر نے حکم دیا کہ جو کچھ باقی ہے اسے جمع کیا جائے۔ وہ جمع کیا گیا اور وہ ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیتے تھے۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! ایک کھجور سے کیا ہوتا تھا؟ فرمایا: اللہ کی قسم! جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہم نے واقعی اس کی کمی محسوس کی۔ ہم میں سے ہر شخص اسے اپنے دانتوں اور تالو کے درمیان رکھ کر چوستا اور ساتھ درختوں کے پتے اور زمین کی نباتات بھی کھاتے، یہاں تک کہ ہم ساحل سمندر تک پہنچے۔ پھر اللہ نے ہمارے لیے ایک مچھلی (وہیل) نکالی جو سمندر نے ساحل پر پھینک دی تھی۔ ہم نے اس سے کھایا اور اس کا گوشت خشک کیا۔ جب ہم نے روانہ ہونا چاہا تو ہمارے امیر نے اس کی ایک پسلی کے دونوں سرے زمین میں گاڑنے کا حکم دیا، پھر ایک اونٹ پر کجاوا رکھوایا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔
