عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ» أَبُو الْمِنْهَالِ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated that on the Day of Uhud, the people could not stand firm with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: «I saw Aishah bint Abi Bakr and Umm Sulaym from afar, with their garments tucked up, carrying water skins and pouring them into the mouths of the people. Then they would return and fill them again, then come back and pour them into the mouths of the people.»
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ احد کے دن لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم نہیں رہ سکے۔ آپ نے فرمایا: «میں نے دور سے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا، ان کے کپڑے سمیٹے ہوئے تھے، مشکیزے اٹھائے ہوئے اور لوگوں کے منہ میں ڈال رہی تھیں۔ پھر وہ واپس جاتیں اور انہیں بھرتیں، پھر آتیں اور لوگوں کے منہ میں ڈالتیں۔»
