عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا فَقَالَا دَعْهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَدَعُهُ تَأْكُلُهُ السِّبَاعُ لَأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ أَحْسَنْتَ إِنِّي أَصَبْتُ صُرَّةً فِيهَا دَنَانِيرُ فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ ﷺ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ «ع��رِّفْهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا فَعَرَّفْتُهَا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ» ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ «احْفَظْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ فَادْفَعْهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «The Hour will not be established until two great groups fight each other, and there will be a great battle between them while their claim is the same; and until there appear nearly thirty liars (Dajjals), each one claiming to be the Messenger of Allah; and until knowledge is taken away, earthquakes increase, time passes quickly, tribulations appear, and al-Harj (killing) increases;» they asked: What is al-Harj, O Messenger of Allah? He stated: «Killing, killing;» «and until wealth becomes so abundant among you that a man is given a hundred dinars and remains displeased.»
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں لڑیں اور ان کے درمیان بڑی جنگ ہو جبکہ ان کا دعویٰ ایک ہو؛ اور یہاں تک کہ تقریباً تیس جھوٹے (دجال) ظاہر ہوں، ہر ایک اپنے آپ کو رسول اللہ ہونے کا دعویدار ہو؛ اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے، زلزلے بڑھ جائیں، وقت تیزی سے گزرے، فتنے ظاہر ہوں، اور ہرج (قتل) بڑھ جائے؛» لوگوں نے پوچھا: ہرج کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «قتل، قتل؛» «اور یہاں تک کہ مال تمہارے درمیان اتنا بڑھ جائے کہ آدمی کو سو دینار دیے جائیں اور وہ ناخوش رہے۔»
