عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ قَالَ «انْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهَا»
انگریزی ترجمہ
Najiyah al-Khuza'i (may Allah be well pleased with him), who was the caretaker of the sacrificial camels of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), narrated: I submitted: "O Messenger of Allah, what should I do with those sacrificial animals that become exhausted?" He stated: "Slaughter it, then dip its shoe-mark (identifying necklace) in its blood, then leave it for the people so they may eat it."
اردو ترجمہ
ناجیہ خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کے نگران تھے، سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قربانی کے جانوروں میں سے جو تھک کر رہ جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «اسے نحر کر دو، پھر اس کا جوتا اس کے خون میں ڈبو دو، پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو تاکہ وہ کھائیں۔»
