عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} ؟ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فقَالَ «بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَوَامِّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ» قَالَ وَزَادَنِي غَيْرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ قَالَ «خَمْسِينَ مِنْكُمْ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Umayyah al-Sha'bani narrated: I came to Hadrat Abu Tha'labah al-Khushani (may Allah be well pleased with him) and said: "O Abu Tha'labah, what do you say about this verse: 'Those who go astray cannot harm you when you are rightly guided'?" He said: "By Allah, you have asked one who is well-informed. I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about it, and he stated: «Rather, enjoin what is right and forbid what is wrong, until you see greed being obeyed, whims being followed, worldly life being preferred, and every person with an opinion being impressed with his own opinion. Then hold to yourself and leave the affair of the common people. For indeed, ahead of you are days when patience therein will be like grasping hot coals. For the one who acts during them, there is the reward of fifty men who do deeds like his.» It was added by another: 'O Messenger of Allah, the reward of fifty of them?' He stated: «Fifty of you.»»
اردو ترجمہ
حضرت ابو امیہ شعبانی سے روایت ہے: میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ثعلبہ! اس آیت کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں: 'گمراہ ہونے والے تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے جب تم ہدایت یافتہ ہو'؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ایک با خبر شخص سے پوچھا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «بلکہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جا رہی ہے، خواہشات کی پیروی کی جا رہی ہے، دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور ہر رائے والا اپنی رائے پر مگرور ہے، تو اپنے آپ کو سنبھالو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو۔ کیونکہ تمہارے آگے ایسے دن ہیں کہ ان میں صبر کرنا گرم کوئلے پکڑنے کے برابر ہوگا۔ ان میں عمل کرنے والے کے لیے پچاس آدمیوں کا اجر ہے جو اس جیسا عمل کریں۔» ایک اور نے اضافہ کیا: یا رسول اللہ! ان میں سے پچاس کا اجر؟ ارشاد فرمایا: «تم میں سے پچاس کا۔»»
