عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ؟ قَالَ «لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) narrated: I said: "O Messenger of Allah, are we working for a matter that has already been decided, or for a matter that we are beginning anew?" He stated: «For a matter that has already been decided.» He said: "Then what is the purpose of deeds?" The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «Every doer is facilitated for his deed.»
اردو ترجمہ
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ایسے معاملے کے لیے عمل کر رہے ہیں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے یا ایسے معاملے کے لیے جو ہم نئے سرے سے شروع کر رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ایسے معاملے کے لیے جو پہلے سے طے ہو چکا ہے۔» انہوں نے کہا: پھر عمل کا کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔»
