عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ * حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ * حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ «أَرْبَعٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهَا النَّاسُ النِّيَاحَةُ وَالتَّعَايُرُ أَوِ التَّعَايُرُ فِي الْأَنْسَابِ وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا وَالْعَدْوَى جَرِبَ بَعِيرٌ فِي مِئَةِ بَعِيرٍ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوْلَ؟ »
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Four things are from the Age of Ignorance that people will never abandon: wailing, reviling — or reviling in lineage —, and saying we received rain by such and such star, and [belief in] contagion. A camel got mange among a hundred camels, so who gave mange to the first one?'
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'چار چیزیں جاہلیت کی ہیں جنہیں لوگ کبھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا، طعنہ زنی — یا نسب میں طعن —، اور یہ کہنا کہ ہمیں فلاں فلاں ستارے سے بارش ہوئی، اور چھوت لگنا۔ سو اونٹوں میں ایک اونٹ کو خارش ہوئی، تو پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی؟'
