عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ كَانَتْ تَقُولُ «مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى» وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا وَكَانَتْ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah (may Allah be well pleased with her) used to say: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would not offer the voluntary prayer of Duha." Yet Hadrat A'ishah herself would offer it, and she used to say: "Indeed, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would refrain from many acts of worship out of concern that people would adopt them as practice and they would become obligatory upon them."
اردو ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی تھیں: «رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔» لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خود اسے پڑھتی تھیں اور فرماتی تھیں: بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بہت سے اعمال اس خشیت سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگ انہیں اپنی سنت بنا لیں اور وہ ان پر فرض ہو جائیں۔
