عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ «أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أُسْوَةٌ؟ » فَقُلْتُ بَلَى قَالَ «فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ»
انگریزی ترجمہ
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: I prayed with the Prophet (peace be upon him) one night, and he stood so long that I thought of doing something bad. We said: 'What did you think of doing?' He said: 'I thought of sitting down and leaving him.'
اردو ترجمہ
حضرت سعید بن یسار سے روایت ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے پر سفر کر رہا تھا۔ جب مجھے صبح کا خوف ہوا تو میں اتر کر وتر پڑھا پھر ان سے جا ملا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھ سے فرمایا: تو کہاں تھا؟ میں نے عرض کیا: مجھے فجر کا خوف ہوا تو میں اتر کر وتر پڑھا۔ فرمایا: کیا تیرے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھا کرتے تھے۔
