عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَنْظُرُ إِلَى الْقَمَرِ مُخْلِيًا؟» فَقَالُوا بَلَى قَالَ «فَاللَّهُ أَعْظَمُ» قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ «أَمَا مَرَرْتَ بِوَادِي أَهْلِكَ مَحْلًا؟» قَالَ بَلَى قَالَ «ثُمَّ مَرَرْتَ بِهِ يَهْتَزُّ خَضِرًا؟» قَالَ بَلَى قَالَ «فَكَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Razin al-'Uqayli (may Allah be well pleased with him) submitted: "O Messenger of Allah, will all of us see our Lord on the Day of Resurrection? And what is the sign of that in His creation?" The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Does not each of you look at the moon in solitude?" They said: "Indeed." He stated: "Then Allah is far greater." He said: I submitted: "O Messenger of Allah, how does Allah bring the dead to life, and what is the sign of that in His creation?" He stated: "Have you not passed by the valley of your people when it was barren?" He said: "Indeed." He stated: "Then have you not passed by it when it was lush and green?" He said: "Indeed." He stated: "Thus does Allah bring the dead to life, and that is His sign in His creation." This hadith has a sound chain of narration and they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم سب قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ اور اُس کی مخلوق میں اس کی کیا نشانی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «کیا تم میں سے ہر ایک تنہائی میں چاند کو نہیں دیکھتا؟» لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: «تو اللہ اس سے کہیں عظیم تر ہے۔» فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ مُردوں کو کیسے زندہ فرمائے گا اور اُس کی مخلوق میں اس کی کیا نشانی ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: «کیا تم اپنی قوم کی وادی سے نہیں گزرے جب وہ خشک تھی؟» کہا: جی ہاں۔ فرمایا: «پھر کیا تم اسی سے نہیں گزرے جب وہ لہلہاتی سبز تھی؟» کہا: جی ہاں۔ فرمایا: «اِسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ فرمائے گا اور یہی اُس کی مخلوق میں اُس کی نشانی ہے۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
