عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ» فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّكُمْ سَتُدْرِكُونَهُ أَوْ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي وَسَمِعَ مِنِّي» قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ كَمَا هِيَ الْيَوْمُ؟ قَالَ «أَوْ خَيْرٌ» سكت عنه الذهبي في التلخيص قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ» فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّكُمْ سَتُدْرِكُونَهُ أَوْ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي وَسَمِعَ مِنِّي» قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ كَمَا هِيَ الْيَوْمُ؟ قَالَ «أَوْ خَيْرٌ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu 'Ubaydah ibn al-Jarrah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "There has been no prophet after Nuh (upon him be peace) except that he warned his nation of the Dajjal, and I warn you of him." Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) described him for us and stated: "You shall reach him, or some of those who saw me and heard from me shall reach him." We said: "O Messenger of Allah, will our hearts on that day be as they are today?" He stated: "Or better." Al-Dhahabi remained silent about it in al-Talkhis.
اردو ترجمہ
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «نوح علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا اور میں تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں۔» پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اس کی صفت بیان فرمائی اور فرمایا: «تم اسے پا لو گے یا تم میں سے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ سے سنا وہ اسے پائیں گے۔» ہم نے عرض کیا: «یا رسول اللہ! کیا اس دن ہمارے دل آج جیسے ہوں گے؟» فرمایا: «یا اس سے بہتر۔» ذہبی نے تلخیص میں اس پر سکوت کیا۔
