عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاطِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ وَفِي صَاعِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مَدِينَتِهِمْ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِلْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مَنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَالدَّجَّالُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sa'd ibn Malik and Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "O Allah, bless the people of Madinah in their mudd and their sa', and bless them in their city. O Allah, Ibrahim (upon him be peace) was Your servant and Your intimate friend, and I am Your servant and Your Messenger. Ibrahim supplicated You for Makkah, and I supplicate You for Madinah the like of what Ibrahim supplicated You for Makkah, and the like thereof with it. Behold, Madinah is encircled by angels; at every passage of its passages there are two angels guarding it. Neither the plague nor the Dajjal shall enter it. Whoever intends its people with harm, Allah shall melt him as salt melts in water." This is a hadith that is authentic according to the criteria of Muslim, though they did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت سعد بن مالک اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اے اللہ! اہلِ مدینہ کے لیے ان کے مُد اور صاع میں برکت دے اور ان کے شہر میں برکت دے۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور تیرے خلیل تھے اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں۔ ابراہیم نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی اور میں تجھ سے مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جیسی ابراہیم نے مکہ کے لیے کی اور اتنی ہی اور۔ سنو! مدینہ فرشتوں سے گھرا ہوا ہے، اس کے ہر راستے پر دو فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ طاعون اس میں داخل ہوگا نہ دجال۔ جو اس کے اہل کا برا چاہے اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔» یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
