عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ الْبُرْجُمِيِّ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا الْقَوْمُ رُكُوعٌ فَرَكَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ وَصَلَ إِلَى الصَّفِّ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلْتُهُ عَنْ قَوْلِهِ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ يَقُولُ «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا وَحَتَّى يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ بِالْمَعْرِفَةِ وَحَتَّى تَتَّجِرَ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا وَحَتَّى تَغْلُو الْخَيْلُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ تَرْخُصَ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Kharijah ibn al-Salt al-Burjumi (may Allah be well pleased with him) narrated: I entered the mosque with Hadrat 'Abdullah [ibn Mas'ud] (may Allah be well pleased with him), and the people were in the bowing position, so he bowed. A man passed by and greeted him, and 'Abdullah said: "Allah and His Messenger spoke the truth." Then he joined the row. When he finished, I asked him about his saying "Allah and His Messenger spoke the truth." He said: "He [the Noble Prophet] (blessings and peace of Allah be upon him) used to say: 'The Hour shall not come until mosques are used as thoroughfares, until a man greets another only because he knows him, until a woman trades alongside her husband, until horses and women become expensive and then become cheap — and they shall not become expensive again until the Day of Resurrection.'" This is a hadith whose chain of transmission is authentic, though they (al-Bukhari and Muslim) did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت خارجہ بن صلت برجمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور لوگ رکوع میں تھے تو آپ نے رکوع کیا۔ ایک شخص گزرا اور سلام کیا تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا: «اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔» پھر صف میں شامل ہوئے۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے «صدق اللہ ورسولہ» کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: «آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ مسجدیں راستے بنا لی جائیں، یہاں تک کہ آدمی صرف پہچان کی وجہ سے سلام کرے، یہاں تک کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ تجارت کرے، یہاں تک کہ گھوڑے اور عورتیں مہنگی ہو جائیں پھر سستی ہوں اور قیامت تک مہنگی نہ ہوں۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
