عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرَ الْعَقَدِيُّ ثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَو��مًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَأَخَذَ بِرَقَبَتِهِ وَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ نَعَمْ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Dawud ibn Abi Salih narrated: Marwan came one day and found a man placing his face upon the (Prophet's) grave. He seized him by his neck and said: "Do you know what you are doing?" The man said: Yes. He turned toward him, and it was Hadrat Abu Ayyub al-Ansari (may Allah be well pleased with him), who said: "I have come to the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), not to a stone. I heard the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) state: 'Do not weep over the religion when its custodians are qualified people, but weep over it when it is in the hands of those who are not qualified.'" This is a hadith whose chain of transmission is authentic, though they (al-Bukhari and Muslim) did not record it.
اردو ترجمہ
داؤد بن ابی صالح سے روایت ہے: مروان ایک دن آیا تو اس نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنا چہرہ (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی) قبر پر رکھا ہوا تھا۔ اس نے اس کی گردن پکڑی اور کہا: تمہیں معلوم ہے تم کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ جب اس نے دیکھا تو وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں، پتھر کے پاس نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: «دین پر مت رؤو جب اس کے والی اہل ہوں، لیکن اس پر روؤ جب اس کے والی نااہل ہوں۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
