عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَنْبَأَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَإِذَا هُوَ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ قَالَ وَمَا سَمِعْتُهُ؟ قَالَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ «إِنَّ الْيَسِيرَ مِنَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَإِنَّ مَنْ عَادَى وَلِيَ اللَّهِ فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ تَعَالَى بِالْمُحَارَبَةِ وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِنْ غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him) went out to the mosque of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and found Hadrat Mu'adh ibn Jabal (may Allah be well pleased with him) weeping at the grave of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He said: "What makes you weep, O Mu'adh?" He said: "Something I heard from the occupant of this grave makes me weep." He asked: "What did you hear?" He said: "I heard him say: 'Indeed, even a little showing off is polytheism. And whoever shows enmity to a friend of Allah has indeed waged war against Allah, the Exalted. Indeed, Allah loves the God-fearing, the hidden ones — those who, when absent, are not missed, and when present, are not invited or recognized. Their hearts are lamps of guidance; they emerge from every dusty, dark place.'" This is a hadith with an authentic chain of transmission, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it. [Authentic].
اردو ترجمہ
روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کی طرف نکلے تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے پاس روتے ہوئے پایا۔ فرمایا: اے معاذ! تمہیں کیا رُلاتا ہے؟ عرض کیا: ایک بات جو میں نے اس قبر والے سے سنی تھی۔ فرمایا: کیا سنا تھا؟ عرض کیا: آپ کو ارشاد فرماتے سنا: «بے شک تھوڑا سا ریاکاری بھی شرک ہے۔ اور جس نے اللہ کے ولی سے دشمنی کی اس نے اللہ تعالیٰ سے جنگ مول لی۔ بے شک اللہ تعالیٰ متقی اور پوشیدہ لوگوں سے محبت فرماتے ہیں — جو غائب ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور حاضر ہوں تو بلائے نہ جائیں اور پہچانے نہ جائیں۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر گرد آلود تاریک جگہ سے نکلتے ہیں۔» یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ صحیح۔
