عربی (اصل)
مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنَّا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ جُلُوسًا إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَنَامِلِهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ كَيْفَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ «الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ أَمْرِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Amr (may Allah be well pleased with them both) narrated: "We were sitting around the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) when he mentioned tribulation, or it was mentioned in his presence. He stated: 'When you see that people's covenants have become confused, their trusts have become light, and they are like this' - and he interlaced his fingers. I stood up and submitted: 'How should I act, O Messenger of Allah, may Allah make me your ransom?' He stated: 'Stay in your house, control your tongue, take what you recognize as good, leave what you recognize as evil, attend to your own affairs, and leave the affairs of the common people.'"
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: "ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے گرد بیٹھے تھے کہ آپ نے فتنے کا ذکر فرمایا یا آپ کے سامنے ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا: 'جب تم دیکھو کہ لوگوں کے عہد بکھر گئے ہیں، ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ ایسے ہو گئے ہیں' - اور اپنی انگلیاں آپس میں ملائیں۔ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا: 'یا رسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، میں کیا کروں؟' آپ نے فرمایا: 'اپنے گھر میں رہو، اپنی زبان پر قابو رکھو، جو معروف ہو اسے لو، جو منکر ہو اسے چھوڑو، اپنے خاص معاملات کی فکر کرو اور عام لوگوں کے معاملات چھوڑ دو۔'"
