عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيُّ ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ يَا فَاطِمَةُ قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِي إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ عِمْرَانُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكِ خَاصَّةً فَأَهَلَّ ذَاكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ «لَا بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»
انگریزی ترجمہ
Hadrat 'Imran ibn Husayn (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'O Fatimah, go to your sacrificial animal and witness it, for indeed at the first drop of its blood that drips, every sin you have committed will be forgiven. And say: Indeed my prayer and my sacrifice, my life and my death are for Allah, Lord of the Worlds. He has no partner, and with that I have been commanded, and I am among the Muslims.' 'Imran said: I submitted: 'O Messenger of Allah, is this for you and your household exclusively, for you are worthy of it, or for the Muslims in general?' He stated: 'No, rather for the Muslims in general.'
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس جاؤ اور اسے دیکھو، کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے پر تمہارا ہر گناہ جو تم نے کیا ہے معاف ہو جائے گا۔ اور کہو: بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔» عمران نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ اور آپ کے اہل بیت کے لیے خاص ہے، جس کے آپ اہل ہیں، یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ ارشاد فرمایا: «نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔»
