عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي مَسِيرٍ أَوْ سَيْرٍ فَأَظَلَّنَا غَيْمٌ فَتَحَيَّرْنَا فَاخْتَلَفْنَا فِي الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا عَلَى حِدَةٍ فَجَعَلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يَأْمُرْن��ا بِالْإِعَادَةِ وَقَالَ «قَدْ أَجْزَأَتْ صَلَاتُكُمْ» «هَذَا حَدِيثٌ مُحْتَجٌّ بِرُوَاتِهِ كُلِّهُمْ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُهُ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ وَقَدْ تَأَمَّلْتُ كِتَابَ الشَّيْخَيْنِ فَلَمْ يُخَرِّجَا فِي هَذَا الْبَابِ شَيْئًا» هو يعني محمد بن سالم أبو سهل واه
انگریزی ترجمہ
Ali ibn Hamshad al-Adl narrated to us... from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) who said: We were praying with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) during a journey when clouds overshadowed us. We became confused and differed about the qiblah direction. Each one of us prayed individually, and each of us drew a line before him so that we could know our positions. When we mentioned this to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he did not order us to repeat the prayer and stated: "Your prayer has sufficed." All narrators of this hadith are cited as authorities except Muhammad ibn Salim, for I do not know him to be either reliable or criticized. I have examined the books of the two Shaykhs and they did not record anything on this subject.
اردو ترجمہ
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو بادل نے ہم پر سایہ کر لیا۔ ہم پریشان ہو گئے اور قبلے کی سمت میں اختلاف ہو گیا۔ ہم میں سے ہر ایک نے الگ الگ نماز پڑھی اور ہر ایک نے اپنے آگے لکیر کھینچی تاکہ ہمیں اپنی جگہیں معلوم ہوں۔ جب ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ہمیں اعادہ کا حکم نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا: "تمہاری نماز ہو گئی ہے۔" اس حدیث کے تمام رواۃ سے احتجاج کیا گیا ہے سوائے محمد بن سالم کے جن کی عدالت یا جرح مجھے معلوم نہیں۔ میں نے شیخین کی کتابیں دیکھیں تو انہوں نے اس باب میں کچھ تخریج نہیں کیا۔
