عربی (اصل)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ثَنَا أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ قَالَا ثَنَا اللَّيْثُ ثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ��مَا هَذَانِ الثَّوْبَانِ؟» قَالَ صَبَغَتْهُمَا لِي أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا رَجَعْتَ إِلَى أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ فَأَمَرْتَهَا أَنْ تُوقِدَ لَهَا التَّنُّورَ ثُمَّ تَطَرْحُهُمَا فِيهِ» فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَفَعَلْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ مِنَ النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ لِلرَّجُلِ عَلَى حَدِيثِ عَلِيٍّ وَفِيهِ نَهَانِي النَّبِيُّ ﷺ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Amr (may Allah be well pleased with them both) narrated: I entered upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) one day wearing two saffron-dyed garments. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said to me: "What are these two garments?" I said: My mother [Umm Abdullah] dyed them for me. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "I adjure you to go back to Umm Abdullah and order her to light the oven and throw them into it." So I returned to her and did so. This hadith has a sound chain of transmission, though they [al-Bukhari and Muslim] did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عصفر سے رنگے ہوئے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "یہ دو کپڑے کیا ہیں؟" میں نے کہا: میری والدہ [اُمّ عبداللہ] نے انہیں رنگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اُمّ عبداللہ کے پاس واپس جاؤ اور انہیں حکم دو کہ تنور جلائیں اور ان کپڑوں کو اس میں ڈال دیں۔" پس میں ان کے پاس واپس گیا اور ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
