عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَا��ِ وَأَبُو يَحْيَى الْخَتَنُ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى قَالَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْبَغْدَادِيُّ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ بِلَيْلَةٍ أَو لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْحَطَبَ فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ فَانْكَفَأْتَ عَلَى ذِرَاعِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَيَقُولُ «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» قَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِئَتْ يَدُكَسكت عنه الذهبي في التلخيص أَقْبَلْتُ بِكَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ بِلَيْلَةٍ أَو لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْحَطَبَ فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ فَانْكَفَأْتَ عَلَى ذِرَاعِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَيَقُولُ «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» قَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِئَتْ يَدُكَسكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
Abu al-Nadr al-Faqih narrated to us in al-Tabaran and Abu Yahya al-Khatan al-Faqih in Bukhara, they said: Salih ibn Muhammad ibn Habib al-Baghdadi narrated to us, Sa'id ibn Sulayman al-Wasiti narrated to us, Abd al-Rahman ibn Uthman ibn Ibrahim narrated to us, my father narrated to us from my grandfather Muhammad ibn Hatib, from his mother Hadrat Umm Jamil (may Allah be well pleased with her) who said: 'I was bringing you along until when we were a night or two's distance from Madinah, I cooked some food for you and the firewood ran out. So I went out to look for firewood, and you reached for the cooking pot and it tipped over on your forearm. When I arrived in Madinah, I brought you to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: O Messenger of Allah, this is Muhammad ibn Hatib, and he is the first to be named after you. He then wiped over your head and supplicated for blessings, then he blew gently into your mouth and began blowing gently on your hand, saying: "Remove the harm, O Lord of mankind, heal, for You are the Healer. There is no healing except Your healing -- a healing that leaves behind no ailment." She said: I did not stand up with you from his presence until your hand had healed.' Al-Dhahabi remained silent about it in al-Talkhis.
اردو ترجمہ
ابو النضر الفقیہ نے طابران میں اور ابو یحیی الختن الفقیہ نے بخارا میں ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: صالح بن محمد بن حبیب البغدادی نے ہم سے بیان کیا، سعید بن سلیمان الواسطی نے ہم سے بیان کیا، عبد الرحمٰن بن عثمان بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، میرے والد نے میرے دادا محمد بن حاطب سے، وہ اپنی والدہ حضرت اُمّ جمیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: 'میں تمہیں لے کر آ رہی تھی یہاں تک کہ جب ہم مدینہ سے ایک یا دو رات کی مسافت پر تھے، میں نے تمہارے لیے کھانا پکایا تو لکڑی ختم ہو گئی۔ میں لکڑی تلاش کرنے نکلی تو تم نے ہنڈیا پکڑی اور وہ تمہارے بازو پر الٹ گئی۔ جب میں مدینہ پہنچی تو تمہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ محمد بن حاطب ہیں اور یہ پہلے شخص ہیں جن کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر پر دستِ مبارک پھیرا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر ان کے منہ میں دم فرمایا اور ان کے ہاتھ پر دم کرنے لگے اور فرماتے جاتے: "تکلیف دور کر اے لوگوں کے رب، شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں -- ایسی شفا جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔" انہوں نے فرمایا: میں تمہیں لے کر آپ کی خدمت سے اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔' امام ذہبی نے تلخیص میں اس پر سکوت فرمایا۔
