عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ثنا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ الطَّائِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ قَالَ كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ ﷺ فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ فَقَالَ «رُشُّوهُ رَشًّا فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ بَوْلُ الْغُلَامِ» «قَدْ خَرَّجَ الشَّيْخَانِ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ حَدِيثَ عَائِشَةَ وَأُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ» أَمَرَ بِمَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِ الصَّبِيِّ « فَأَمَّا ذِكْرُ بَوْلِ الصَّبِيَّةِ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
انگریزی ترجمہ
Ahmad ibn Ja'far al-Qati'i informed us... from Hadrat Abu al-Samh (may Allah be well pleased with him) who said: I was a servant of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Hadrat Hasan or Hadrat Husayn (may Allah be well pleased with them both) was brought, and he urinated on his blessed chest. They wanted to wash it, but he stated: "Sprinkle it with water, for the urine of a girl is to be washed and the urine of a boy is to be sprinkled." The two Shaykhs have recorded in the chapter of infant urine the hadith of Hadrat Aisha and Hadrat Umm Qays bint Mihsan (may Allah be well pleased with them both) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ordered water to be poured over the boy's urine. As for the mention of the girl's urine, the two Shaykhs did not record it.
اردو ترجمہ
حضرت ابو السمح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خادم تھا۔ حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو لایا گیا تو انہوں نے آپ کے سینہ مبارک پر پیشاب کر دیا۔ لوگوں نے دھونا چاہا تو آپ نے ارشاد فرمایا: "اس پر پانی چھڑک دو کیونکہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔" شیخین نے بچے کے پیشاب کے باب میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث تخریج کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکے کے پیشاب پر پانی بہانے کا حکم دیا۔ لڑکی کے پیشاب کا ذکر شیخین نے تخریج نہیں کیا۔
