عربی (اصل)
وَأَخْبَرْنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْمَرْوَزِيُّ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالُوا هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ قَالَ «فَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ» سكت عنه الذهبي في التلخيص كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالُوا هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟» قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجُوعُ قَالَ «فَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
انگریزی ترجمہ
And Abdullah ibn Ishaq al-Khuza'i informed us in Makkah, Abu Yahya ibn Abi Masarrah narrated to us, Mu'adh ibn Asad al-Marwazi narrated to us, al-Fadl ibn Musa narrated to us, Salih ibn Abi Ja'far narrated to us from his father, from Hadrat Rafi' ibn Amr al-Ghifari (may Allah be well pleased with him) who said: I was throwing [stones at] the date palms of the Ansar. They caught me and took me to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). They said: 'This boy throws at our date palms.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'O Rafi', why do you throw at their date palms?' I submitted: 'O Messenger of Allah, hunger.' He stated: 'Do not throw...'
اردو ترجمہ
اور عبداللہ بن اسحاق الخزاعی نے مکہ میں ہمیں خبر دی، ابو یحییٰ بن ابی مسرہ نے ہمیں بیان کیا، معاذ بن اسد المروزی نے ہمیں بیان کیا، فضل بن موسیٰ نے ہمیں بیان کیا، صالح بن ابی جعفر نے اپنے والد سے، حضرت رافع بن عمرو الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مار رہا تھا۔ انہوں نے مجھے پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے۔ انہوں نے کہا: یہ لڑکا ہمارے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'اے رافع! ان کے کھجور کے درختوں پر کیوں مارتے ہو؟' میں نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! بھوک ہے۔' ارشاد فرمایا: 'نہ مارو...'
