عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ الطَّنَافِسِيُّ ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ مَوْلَى طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ مَعَ عُمَرَ بْنِ طَلْحَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ قَالَ فَرَحَّبَ بِهِ وَأَدْنَاهُ قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ وَأَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ ﷻ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غَلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر 47] فَقَالَ «يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ فُلَانَةُ كَيْفَ فُلَانَةُ؟» قَالَ وَسَأَلَهُ عَنْ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِ أَبِيهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ «لَمْ نَقْبِضْ أَرَاضِيَكُمْ هَذِهِ السَّنَةَ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يَنْتَهِبَهَا النَّاسُ يَا فُلَانُ انْطَلِقْ مَعَهُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَمُرْهُ فَلْيُعْطِهِ غَلَّتَهُ هَذِهِ السَّنَةَ وَيَدْفَعُ إِلَيْهِ أَرْضَهُ» فَقَالَ رَجُلَانِ جَالِسَانِ إِلَى نَاحِيَةٍ أَحَدُهُمَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ نَقْتُلَهُمْ وَيَكُونُوا إِخْوَانَنَا فِي الْجَنَّةِ قَالَ «قَوْمًا أَبْعَدُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَسْحَقُهَا فَمَنْ هُوَ إِذًا لَمْ أَكُنْ أَنَا وَطَلْحَةُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا كَانَتْ لَكَ حَاجَةٌ فَأْتِنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
انگریزی ترجمہ
Abu Abdullah Muhammad ibn Ya'qub al-Hafiz narrated to us, Ibrahim ibn Abdullah al-Sa'di narrated to us, Muhammad ibn Ubayd al-Tanafisi informed us, Abu Malik al-Ashja'i narrated to us from Abu Habiba, the freed slave of Talha, who said: I entered upon Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) with Umar ibn Talha after he had finished with the people of the Camel. He welcomed him and drew him near and said: "I hope that Allah shall make me and your father among those about whom Allah the Exalted said: 'And We shall remove whatever resentment is in their breasts...'"
اردو ترجمہ
ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ہمیں بیان کیا، ابراہیم بن عبد اللہ سعدی نے ہمیں بیان کیا، محمد بن عبید طنافسی نے ہمیں خبر دی، ابو مالک اشجعی نے ابو حبیبہ مولیٰ طلحہ سے روایت کیا، فرمایا: میں حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس عمر بن طلحہ کے ساتھ داخل ہوا جنگ جمل والوں سے فراغت کے بعد۔ آپ نے ان کا استقبال کیا اور قریب کیا اور فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ مجھے اور تمہارے والد کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‹اور ہم نے ان کے سینوں سے جو کینہ تھا نکال دیا...›
